Photo 9 of 19 in Wall Photos

Pin It
متحدہ اپوزیشن کا دہشت گرد لشکر

انصارالسلام کی بنیاد 2004ء میں سیف الرحمن نامی ایک افغانی نے رکھی۔
اس تنظیم کو پاکستان دہشت گرد اور کلعدم قرار دے چکا ہے۔
باڑہ سے تعلق رکھنے والی اس دہشت گرد تنٖظیم نے میدان اور تیراہ کے علاقے میں کئی سالوں تک جنگیں کیں جن میں کم و بیش ایک ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی۔

پاک فوج کے آپریشن میں انصار السلام اور لشکر اسلام دونوں تنظیموں کو شکست ہوئی اور ان کی بڑی تعداد بھاگ کر افغانستان چلی گئی۔

پاکستانی عدلیہ کی مہربانیوں، جے یو آئی جیسی مذہبی سیاسی جماعتوں اور پاکستانی لبرلز کی سپورٹ کی بدولت ان میں سے بہت سوں کو پاکستان واپسی اور دوبارہ ایکٹیو ہونے کی راہ ملی۔

شائد یہ بات آپ کو دلچسپ لگے کہ 2013ء میں پی ٹی ایم کے سینیر راہنما اور وکیل لطیف آفریدی نے انصارالسلام کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کی سخت مخالفت کی تھی۔ ان کا موقف تھا کہ انصار السلام گڈ طالبان ہیں جو لشکر اسلام کے خلاف لڑ رہے ہیں اس لیے انہیں کچھ نہ کہا جائے۔

زکوٹہ جن's Album: Wall Photos


0 Comments   |   زکوٹہ جن and 1 other react this.

No Stickers to Show

X